71:20至71:21节的经注
لتسلكوا منها سبلا فجاجا ٢٠ قال نوح رب انهم عصوني واتبعوا من لم يزده ماله وولده الا خسارا ٢١
لِّتَسْلُكُوا۟ مِنْهَا سُبُلًۭا فِجَاجًۭا ٢٠ قَالَ نُوحٌۭ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِى وَٱتَّبَعُوا۟ مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارًۭا ٢١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قال نوح ............................ الا ضلاً

حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم نے اس طویل جدوجہد ومسلسل جہاد کے باوجود ان کو پوری طرح مسترد کردیا۔ حقیقت کو اچھی طرح پیش کرنے اور حقائق پر اچھی طرح روشنی ڈالنے کے باوجود لوگوں نے منہ موڑ لیا۔ ان کو ڈرایا بھی گیا ، مال دولت اور اقتدار واولاد کے وعدے بھی ان کے ساتھ کیے گئے۔ ترقی اور خوشحالی کا لالچ بھی دیا گیا۔ یہ لوگ چونکہ گمراہ قیادتوں کے پیچھے چلتے تھے ، اور گمراہ قیادتیں ہمیشہ اپنے عوام کو دھوکہ دیتی ہیں ، اس لئے کہ گمراہ قیادتوں کے ہاتھ میں مالی وسائل اور جاہ واقتدار ہوتا ہے ، تو لوگ انہی کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔

واتبعوا .................... خسارا (17 : 12) ” اور ان (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں “۔ اس مال اور اولاد نے انہیں دھوکہ دے کر مزید گمراہ کردیا ۔ لہٰذا مال واولاد کے نتیجے میں انہیں بدبختی اور خسارہ ہی ملا۔