آپ 8:49 سے 8:51 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
اذ يقول المنافقون والذين في قلوبهم مرض غر هاولاء دينهم ومن يتوكل على الله فان الله عزيز حكيم ٤٩ ولو ترى اذ يتوفى الذين كفروا الملايكة يضربون وجوههم وادبارهم وذوقوا عذاب الحريق ٥٠ ذالك بما قدمت ايديكم وان الله ليس بظلام للعبيد ٥١
إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَـٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ٤٩ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَـٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ ٥٠ ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّـٰمٍۢ لِّلْعَبِيدِ ٥١
اِذْ
یَقُوْلُ
الْمُنٰفِقُوْنَ
وَالَّذِیْنَ
فِیْ
قُلُوْبِهِمْ
مَّرَضٌ
غَرَّ
هٰۤؤُلَآءِ
دِیْنُهُمْ ؕ
وَمَنْ
یَّتَوَكَّلْ
عَلَی
اللّٰهِ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟
وَلَوْ
تَرٰۤی
اِذْ
یَتَوَفَّی
الَّذِیْنَ
كَفَرُوا ۙ
الْمَلٰٓىِٕكَةُ
یَضْرِبُوْنَ
وُجُوْهَهُمْ
وَاَدْبَارَهُمْ ۚ
وَذُوْقُوْا
عَذَابَ
الْحَرِیْقِ
۟
ذٰلِكَ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَیْدِیْكُمْ
وَاَنَّ
اللّٰهَ
لَیْسَ
بِظَلَّامٍ
لِّلْعَبِیْدِ
۟ۙ
3

آیت 49 اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ ابھی تک ایک طرف کے حالات کا نقشہ پیش کیا جا رہا تھا۔ یعنی لشکر قریش کی مکہ سے روانگی ‘ اس لشکر کی کیفیت ‘ ان کے سرداروں کے متکبرانہ خیالات ‘ شیطان کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا اور پھر عین وقت پر بھاگ کھڑے ہونا۔ اب اس آیت میں مدینہ کے حالات پر تبصرہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لشکر لے کر نکلے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین کیا کیا باتیں بنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے :غَرَّ ہٰٓؤُلَآءِ دِیْنُہُمْ ط یعنی ان لوگوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے جو قریش کے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنے چل پڑے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی ان کو سفھَاء احمق سمجھتے تھے ‘ مگر اب تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے دین کے پیچھے بالکل ہی پاگل ہوگئے ہیں۔