آپ 18:64 سے 18:65 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
قال ذالك ما كنا نبغ فارتدا على اثارهما قصصا ٦٤ فوجدا عبدا من عبادنا اتيناه رحمة من عندنا وعلمناه من لدنا علما ٦٥
قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَٱرْتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصًۭا ٦٤ فَوَجَدَا عَبْدًۭا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَـٰهُ رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَـٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًۭا ٦٥
قَالَ
ذٰلِكَ
مَا
كُنَّا
نَبْغِ ۖۗ
فَارْتَدَّا
عَلٰۤی
اٰثَارِهِمَا
قَصَصًا
۟ۙ
فَوَجَدَا
عَبْدًا
مِّنْ
عِبَادِنَاۤ
اٰتَیْنٰهُ
رَحْمَةً
مِّنْ
عِنْدِنَا
وَعَلَّمْنٰهُ
مِنْ
لَّدُنَّا
عِلْمًا
۟
3

معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔