8:64 ile 8:66 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
يا ايها النبي حسبك الله ومن اتبعك من المومنين ٦٤ يا ايها النبي حرض المومنين على القتال ان يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مايتين وان يكن منكم ماية يغلبوا الفا من الذين كفروا بانهم قوم لا يفقهون ٦٥ الان خفف الله عنكم وعلم ان فيكم ضعفا فان يكن منكم ماية صابرة يغلبوا مايتين وان يكن منكم الف يغلبوا الفين باذن الله والله مع الصابرين ٦٦
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَسْبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٦٤ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَى ٱلْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَـٰبِرُونَ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ ٦٥ ٱلْـَٔـٰنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًۭا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ صَابِرَةٌۭ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ ٦٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اہلِ ایمان کی تعداد غیر اہل ایمان کی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی وجہ یہ بتائی کہ اہلِ ایمان کے اندر فقہ ہوتی ہے جب کہ غیر اہلِ ایمان فقہ سے محروم ہیں۔ فقہ کے لفظی معنی سمجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ بصیرت اور شعور ہے جو ایمان کے نتیجہ میںایک شخص کو حاصل ہوتاہے۔ خدا پر ایمان کسی آدمی کے ليے وہی معنی رکھتا ہے جو اندھیرے کمرے میں بجلی كے بلب كا جل جانا۔ بلب پورے کمرے کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ اس کی ہر چیز واضح طورپر دکھائی دینے لگے۔اسی طرح ایمان آدمی کو ایک ربانی شعور عطا کرتاہے جس کے بعد وہ تمام حقیقتوں کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔

ایمان کے نتیجہ میں یہ ہوتاہے کہ آدمی زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھ لیتاہے ۔ وہ جان لیتاہے کہ اصل چیز حیاتِ دنیا نہیں بلکہ حیات ِآخرت ہے۔ یہ چیز اس کو بے پناہ حد تک نڈر بنادیتی ہے۔ وہ موت کو اس نظر سے دیکھنے لگتاہے کہ وہ اس کے ليے جنت میںداخلہ کا دروازہ ہے۔ مومن شہادت کو جنت کا مختصر راستہ سمجھتاہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا اس کے ليے مطلوب چیز بن جاتاہے، جب کہ غیر مومن کی جنت یہی موجودہ دنیا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنت کا لطف اٹھاسکے۔ غیر مومن قومی شعور کے تحت لڑتاہے اورمومن جنتی شعور کے تحت، اور قومی شعور والا کبھی اتنی بے جگری کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔

مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتاہے، وہ آخرت کی فکر کرنے والا ہوتا ہے، یہ مزاج اس کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرتاہے۔ وہ ضد، نفرت، تعصب، انتقام اور گھمنڈ جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتاہے۔ دوسری طرف غیر مومن کا معاملہ سراسر اس کے برعکس ہوتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ غیر مومن کے اقدامات منفی نفسیات کے تحت ہوتے ہیں اور مومن کے اقدامات ایجابی نفسیات کے تحت۔ غیر مومن جذباتی انداز سے عمل کرتاہے اور مومن حقیقت پسندانہ انداز سے۔ غیر مومن انسانوں کا دشمن ہوتاہے اور مومن صرف انسانوں کی برائی کا۔ غیر مومن تنگ ظرفی کے ساتھ معاملہ کرتاہے اور مومن وسعتِ ظرف کے ساتھ۔

ہزار کے مقابلہ میں سو اور دوہزار کے مقابلہ میں ایک ہزار کے الفاظ بتاتے ہیں کہ قتال کا حکم جماعت اور فوج کے ليے ہے۔ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا کہ ایک دو آدمی ہوںتب بھی وہ لڑنے کے ليے کھڑے ہوجائیں۔