7:59 ile 7:64 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
لقد ارسلنا نوحا الى قومه فقال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من الاه غيره اني اخاف عليكم عذاب يوم عظيم ٥٩ قال الملا من قومه انا لنراك في ضلال مبين ٦٠ قال يا قوم ليس بي ضلالة ولاكني رسول من رب العالمين ٦١ ابلغكم رسالات ربي وانصح لكم واعلم من الله ما لا تعلمون ٦٢ اوعجبتم ان جاءكم ذكر من ربكم على رجل منكم لينذركم ولتتقوا ولعلكم ترحمون ٦٣ فكذبوه فانجيناه والذين معه في الفلك واغرقنا الذين كذبوا باياتنا انهم كانوا قوما عمين ٦٤
لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥٓ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ٥٩ قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٦٠ قَالَ يَـٰقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَـٰلَةٌۭ وَلَـٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٦١ أُبَلِّغُكُمْ رِسَـٰلَـٰتِ رَبِّى وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٦٢ أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا۟ وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٦٣ فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَـٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ ٦٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔

اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔

حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔