79:38 ile 79:46 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
واثر الحياة الدنيا ٣٨ فان الجحيم هي الماوى ٣٩ واما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى ٤٠ فان الجنة هي الماوى ٤١ يسالونك عن الساعة ايان مرساها ٤٢ فيم انت من ذكراها ٤٣ الى ربك منتهاها ٤٤ انما انت منذر من يخشاها ٤٥ كانهم يوم يرونها لم يلبثوا الا عشية او ضحاها ٤٦
وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ٣٨ فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ٣٩ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ ٤٠ فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ٤١ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ٤٢ فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ٤٣ إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ٤٤ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا ٤٥ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ٤٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3
باب

اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔

10267

پھر فرمایا کہ ” قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی “۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔

سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے [صحیح بخاری:50]

پھر فرمایا کہ ” اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے “۔

لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔

سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»

10268