آیت 30 یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ج وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْءٍ ج اس کا نقشہ سورة الزلزال میں بایں الفاظ کھینچا گیا ہے : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ تو جس نے ایک ذرے کے ہم وزن نیکی کی ہوگی وہ اس کو بچشم خود دیکھ لے گا۔ اور جس نے ایک ذرے کے ہم وزن برائی کی ہوگی وہ اس کو بچشم خود دیکھ لے گا۔تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَہَا وَبَیْنَہٗ اَمَدًام بَعِیْدًا ط۔اس وقت ہر انسان یہ چاہے گا کہ کاش میرے اور میرے اعمال نامے کے درمیان بڑا فاصلہ آجائے اور میری نگاہ بھی اس پر نہ پڑے۔وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط۔یعنی تقویٰ اختیار کرنا ہے تو اس کا کرو ‘ ڈرنا ہے تو اس سے ڈرو ‘ خوف کھانا ہے تو اس سے کھاؤ ! وَاللّٰہُ رَءُ وْفٌم بالْعِبَادِ ۔یہ تنبیہات warnings وہ تمہیں بار بار اسی لیے دے رہا ہے تاکہ تمہاری عاقبت خراب نہ ہو۔