36:48 ile 36:53 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ويقولون متى هاذا الوعد ان كنتم صادقين ٤٨ ما ينظرون الا صيحة واحدة تاخذهم وهم يخصمون ٤٩ فلا يستطيعون توصية ولا الى اهلهم يرجعون ٥٠ ونفخ في الصور فاذا هم من الاجداث الى ربهم ينسلون ٥١ قالوا يا ويلنا من بعثنا من مرقدنا هاذا ما وعد الرحمان وصدق المرسلون ٥٢ ان كانت الا صيحة واحدة فاذا هم جميع لدينا محضرون ٥٣
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٤٨ مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةًۭ وَٰحِدَةًۭ تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُونَ ٤٩ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةًۭ وَلَآ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ ٥٠ وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ ٥١ قَالُوا۟ يَـٰوَيْلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا ۜ ۗ هَـٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَصَدَقَ ٱلْمُرْسَلُونَ ٥٢ إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَإِذَا هُمْ جَمِيعٌۭ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ ٥٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ آخرت کی طرف سے اس طرح بے فکررہتے ہیں گویا کہ آخرت کوئی بہت دور کی چیز ہے۔ ان میں سے جو لوگ زیادہ غیر سنجیدہ ہیں و ہ بعض اوقات آخرت کا مذاق بھی اڑانے لگتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ اپنی اسی غفلت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ قیامت انھیں اس طرح دفعۃً پکڑ لے گی کہ وہ اس کے خلاف کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔

حدیث میں ہے کہ اسرافیل صور اپنے منھ میں ليے ہوئے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کب حکم ہو اور وہ ا س میں پھونک مار دیں۔ صور کا پھونکا جانا ایسا ہی ہے جیسے امتحان کا وقت ختم ہوجانے کا گھنٹہ بجنا۔ اس کے فوراً بعد دنیا کا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد انجام کا مرحلہ شروع ہوگا، جب کہ آج ہم عمل کے مرحلہ سے گزر رہے ہیں۔