34:20 ile 34:21 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ولقد صدق عليهم ابليس ظنه فاتبعوه الا فريقا من المومنين ٢٠ وما كان له عليهم من سلطان الا لنعلم من يومن بالاخرة ممن هو منها في شك وربك على كل شيء حفيظ ٢١
وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٢٠ وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَـٰنٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِٱلْـَٔاخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّۢ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌۭ ٢١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ابلیس یا اس کے نمائندے ہمیشہ انسان کے خلاف اپنا منصوبہ بناتے ہیں۔ ایسے موقع پر انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ان کے منصوبہ کا شکار نہ ہو۔ اور اس طرح وہ ان کو ناکام بنادے۔ مگر سبا کے لوگ دوسرے لوگوں کی طرح اس دانائی کا ثبوت نہ دے سکے۔ وہ شیطانی ترغیبات کے زیر اثر آکر تباہی کے راستہ پر چل پڑے۔ صرف تھوڑے سے حق پرست تھے جو اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔

شیطان کو یا اس کے نمائندہ کو خدا نے کسی کے اوپر عملی اختیار نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف بہکانے کا اختیار ہے۔ یہ اس ليے ہے تاکہ انسان کو آزمائش ہو۔ اس آزمائش میں پورا اترنے والا شخص وہ ہے جو شیطانی ترغیبات سے غیر متاثر رہ کر حق وصداقت پر قائم رہے۔