16:48 ile 16:50 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
اولم يروا الى ما خلق الله من شيء يتفيا ظلاله عن اليمين والشمايل سجدا لله وهم داخرون ٤٨ ولله يسجد ما في السماوات وما في الارض من دابة والملايكة وهم لا يستكبرون ٤٩ يخافون ربهم من فوقهم ويفعلون ما يومرون ۩ ٥٠
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ يَتَفَيَّؤُا۟ ظِلَـٰلُهُۥ عَنِ ٱلْيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدًۭا لِّلَّهِ وَهُمْ دَٰخِرُونَ ٤٨ وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن دَآبَّةٍۢ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ٤٩ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩ ٥٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

انسان ایک ایسی دنیا میں سرکشی کرتاہے، جس میں اس کے چاروں طرف اس کو تابعداری کا سبق دیا جارہا ہے۔ مثال کے طورپر مادی اجسام کے سائے۔ ایک چیز جو کھڑی ہوئی ہو، اس کا سایہ زمین پر پڑ جاتا ہے۔ اس طرح وہ سجدہ کو ممثل کررہا ہے۔ وہ تمثیلی انداز میں بتاتاہے کہ انسان کو کس طرح اپنے خالق کے آگے جھک جانا چاہیے۔

فرشتے اگر چہ انسان کو نظر نہیں آتے۔ مگر عظیم کائنات کا اس قدر منظم ہو کر چلنا ثابت کرتاہے کہ اس کو چلانے کے لیے خدا نے اپنے جو کارندے مقرر کيے ہیں وہ انتہائی طاقت ور ہیں۔ یہ فرشتے غیر معمولی طاقت ور ہونے کے باوجود خدا کے حد درجہ مطیع ہیں۔ اگر وہ حد درجہ مطیع نہ ہوں تو کائنات کا نظام اس درجہ صحت اور یکسانیت کے ساتھ مسلسل چلتا ہوا نظر نہ آئے۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے صحیح رویہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی اطاعت میں دے دے، وہ مکمل طورپر اس کا فرماں بردار بن جائے۔