الان خفف الله عنكم وعلم ان فيكم ضعفا فان يكن منكم ماية صابرة يغلبوا مايتين وان يكن منكم الف يغلبوا الفين باذن الله والله مع الصابرين ٦٦
ٱلْـَٔـٰنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًۭا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ صَابِرَةٌۭ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ ٦٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 66 اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ط۔یہ کس کمزوری کا ذکر ہے اور یہ کمزوری کیسے آئی ؟ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جہاں تک مہاجرین اور انصار میں سے ان صحابہ کرام رض کا تعلق ہے جو سابقون الاوّلُون میں سے تھے تو ان کے اندر معاذ اللہ کسی قسم کی بھی کوئی کمزوری نہیں تھی ‘ لیکن جو لوگ نئے مسلمان ہو رہے تھے ان کی تربیت ابھی اس انداز میں نہیں ہوپائی تھی جیسے پرانے لوگوں کی ہوئی تھی۔ ان کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا اور مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں ایسے نئے لوگوں کا تناسب روز بروز بڑھ رہا تھا۔ مثلاً اگر پہلے ہزار لوگوں میں پچاس یا سو نئے لوگ ہوں تو اب ان کی تعداد خاصی زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔ لہٰذا اوسط کے اعتبار سے مسلمانوں کی صفوں میں پہلے کی نسبت اب کمزوری آگئی تھی۔فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا ماءَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط اور اگر تم میں ایک ہزار ہوں گے تو وہ دو ہزار پر غالب آجائیں گے اللہ کے حکم سے۔