آیت 49 وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ آج ہمارا کیا حال ہے ؟ ہم کن لوگوں کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں ؟ آج ہم احکام الٰہی کو پس پشت ڈال کر اپنے سیاسی پیشواؤں کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ وہ جو چاہتے ہیں قانون بنا دیتے ہیں ‘ جو چاہتے ہیں فیصلہ کردیتے ہیں اور پوری قوم اس کی پابند ہوتی ہے۔ ہم اس جال سے اسی صورت میں نکل سکتے ہیں کہ ایک زبردست جماعت بنائیں ‘ طاقت پیدا کریں ‘ ایک بھر پور تحریک اٹھائیں ‘ قربانیاں دیں ‘ جانیں لڑائیں تاکہ یہ موجودہ نظام تبدیل ہو ‘ اللہ کا دین قائم ہو ‘ اور پھر اس دین کے مطابق ہمارے فیصلے ہوں۔ یہاں حضور ﷺ کو ایک بار پھر سے تاکید کی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجیے اور اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کیجیے۔وَاحْذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْم بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ط۔یعنی ہر طرف سے دباؤ آئے گا ‘ لیکن آپ ﷺ کو ثابت قدمی سے کھڑے رہنا ہے اس شریعت پر جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّصِیْبَہُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِہِمْ ط یہ دراصل لرزا دینے والا مقام ہے۔ اگر ہم اپنے اس ملک کے اندر اسلام کو قائم نہیں کرتے اور ہماری ساری کوششوں کے باوجود دین نافذ نہیں ہو رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کا کوئی کوڑا مقدرّ ہوچکا ہے۔ واضح الفاظ میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر وہ اللہ کے احکامات سے ُ منہ موڑیں ‘ شریعت کے فیصلوں کا انکار کریں تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ در حقیقت ان کے گناہوں کی پاداش میں ان پر عذاب نازل کرنا چاہتا ہے اور اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ البروج کے مصداق انہیں کوئی سزادینا چاہتا ہے۔