وله الكبرياء في السماوات والارض وهو العزيز الحكيم ٣٧
وَلَهُ ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٣٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 37 { وَلَہُ الْکِبْرِیَآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِص وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”اور اسی کے لیے ہے بڑائی آسمانوں اور زمین میں۔ اور وہی ہے زبردست ‘ حکمت والا۔“ اللہ اکبر ! یقینا اللہ سب سے بڑا ہے ! وہ آسمانوں میں بھی سب سے بڑا ہے اور وہ زمین میں بھی سب سے بڑا ہے۔ مگر زمین میں عملی طور پر اسے بڑا نہیں مانا جا رہا۔ زمین میں اللہ کے بندے اللہ سے بغاوت کرچکے ہیں۔ وہ اللہ کے قوانین کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کی قانون سازی کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کسی ملک کے عوام ہی اس کے اقتدارِ اعلیٰ sovereignty کے اصل مالک ہیں۔ لیکن یاد رکھیے ! ”حاکمیت“ کا یہی دعویٰ سب سے بڑا کفر اور سب سے بڑا شرک ہے ‘ چاہے یہ دعویٰ فردِ واحد کرے یا پوری قوم مل کر کرے۔ اس حوالے سے بائبل میں موجود Lords Prayer کے یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ اس دعا میں اسی دعوے کو ختم کرنے ‘ اسی کفر و شرک کو مٹانے اور آسمانوں کی طرح زمین پر بھی اللہ کی مرضی نافذ کرنے کا ذکر ہے : Thy Kingdom come Thy will be done on Earth As it is in Heavensکہ اے اللہ ! تیری بادشاہت آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمانوں میں پوری ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی پوری ہو۔ آسمانوں کی مخلوق تو تیرے احکام کو من و عن تسلیم کرتی ہے۔ سورج تیری مرضی کے مطابق رواں دواں ہے۔ چاند تیرے حکم کا تابع ہے اور تمام کہکشائیں تیری مشیت کے سامنے سرنگوں ہیں ‘ لیکن ایک زمین ہے کہ جس کے بحر و بر کو انسان نے اپنے کرتوتوں کے سبب فساد سے بھر دیا ہے : { ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ } الروم : 41 … اس لیے ضروری ہے کہ اللہ کی مرضی جیسے آسمانوں پر نافذ ہے ویسے ہی زمین پر بھی نافذ ہو۔ زمین پر بھی اللہ کے حکم کو سپریم لاء کا درجہ حاصل ہو۔ اسی قانون کے مطابق فیصلے ہوں۔ اسی کیفیت کا نام ”اقامت دین“ ہے ‘ جس کے لیے ”تنظیم اسلامی“ جدوجہد میں مصروف ہے۔