ان تبدوا الصدقات فنعما هي وان تخفوها وتوتوها الفقراء فهو خير لكم ويكفر عنكم من سيياتكم والله بما تعملون خبير ٢٧١
إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَـٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ٢٧١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 271 اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّاہِیَ ج۔خاص طور پر زکوٰۃ کا معاملہ تو علانیہ ہی ہے۔ تو اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ اس لیے کہ کم سے کم فقراء کا حق تو ادا ہوگیا ‘ کسی کی ضرورت تو پوری ہوگئی۔ وَاِنْ تُخْفُوْہَا وَتُؤْتُوْہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ط۔ یاد رہے کہ یہ بات صدقات نافلہ کے لیے ہے۔ لیکن جو صدقات واجبہ ہیں ‘ جو لازماً دینے ہیں ‘ مثلاً زکوٰۃ اور عشر ‘ ان کے لیے اخفاء نہیں ہے۔ یہ دین کی حکمت ہے ‘ اس کو ذہن میں رکھیے کہ فرض عبادات علانیہ ادا کی جائیں گی۔ یہ وسوسہ بھی شیطان بہت سوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے کہ کیا پانچ وقت مسجد میں جا کر نماز پڑھنے سے لوگوں پر اپنے تقویٰ کا رعب ڈالنا چاہتے ہو ؟ گھر میں پڑھ لیا کرو ! یا داڑھی اس لیے رکھو گے کہ لوگ تمہیں سمجھیں کہ بڑا متقی ہے ؟ ایسے وساوس شیطانی کو کوئی اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جو چیز فرض و واجب ہے ‘ وہ علی الاعلان کرنی چاہیے ‘ اس کے اظہار میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ ہاں جو نفلی عبادات ہیں ‘ صدقات نافلہ ہیں یا نفل نماز ہے اسے چھپا کر کرنا چاہیے۔ نفل عبادت کا اظہار بہت بڑا فتنہ ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ اگر تم اپنے صدقات چھپا کر چپکے سے ضرورت مندوں کو دے دو تو وہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔