آیت 222 وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ط قُلْ ہُوَ اَذًیلا فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْْمَحِیْضِلا وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ج فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ط معلوم ہوا کہ بدیہیات فطرت اللہ تعالیٰ کے اوامر میں شامل ہیں۔ عورتوں کے ساتھ مجامعت کا طریقہ انسان کو فطری طور پر معلوم ہے ‘ یہ ایک امر طبعی ہے۔ ہر حیوان کو بھی جبلی طور پر معلوم ہے کہ اسے اپنی مادّہ کے ساتھ کیسا تعلق قائم کرنا ہے۔ لیکن اگر انسان فطری طریقہ چھوڑ کر غیر فطری طریقہ اختیار کرے اور عورتوں کے ساتھ بھی قوم لوط والا عمل کرنے لگے تو یہ حرام ہے۔ صحیح راستہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فطرت میں ڈالا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔ ان سے اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے توبہ کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں سے دور رہتے ہیں۔