Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 73:17 hingga 73:18
فكيف تتقون ان كفرتم يوما يجعل الولدان شيبا ١٧ السماء منفطر به كان وعده مفعولا ١٨
فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًۭا يَجْعَلُ ٱلْوِلْدَٰنَ شِيبًا ١٧ ٱلسَّمَآءُ مُنفَطِرٌۢ بِهِۦ ۚ كَانَ وَعْدُهُۥ مَفْعُولًا ١٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

فکیف .................... شیبا (73:17) ن السمائ ................ بہ (73:18) ” اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اس دن کیسے بچ جاﺅ گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا ؟ “۔ یہ اس قدر ہولناک صورت حالات ہوگی کہ آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگا ، اس سے عمل زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی ہوگی اور پھر جب اس دن جو بچے بھی ہوں گے وہ غم کے مارے بوڑھے ہوجائیں گے۔ یہ ہولناکی اب انسانی ذات کے اندر آجاتی ہے۔ زندہ انسانوں کی حالت کیا ہوگی ؟ یہ لڑکے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور لوگوں کے احساس کو اس طرف پھیرا جاتا ہے اور پھر بطور تاکید کہا جاتا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔

کان ................ مفعولا (73:18) ” اللہ کا وعدہ پورا ہوکر ہی رہتا ہے “۔ یہ ایک واقعہ ہوگا ، کیونکہ یہ اللہ کی مشیت ہوگی اور اللہ کی مشیت کے مطابق واقعات رونما ہوتے ہیں۔

یہ ہولناکی جو زمین کے لرزہ ، قیام قیامت اور نفس انسانی کی خوفزدگی کی شکل میں سامنے آئی ، اس کے بعد اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے ؟