آیت 3{ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاط } ”وہ اللہ کہ جس نے بنائے سات آسمان ایک دوسرے کے اوپر۔“ یہ آیت آیات متشابہات میں سے ہے۔ ابھی تک انسان سات آسمانوں کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ { مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰـوُتٍ } ”تم نہیں دیکھ پائو گے رحمن کی تخلیق میں کہیں کوئی فرق۔“ اس کائنات کا نظام اور اس میں موجود ایک ایک چیز کی تخلیق اس قدر خوبصورت ‘ محکم ‘ مربوط اور کامل ہے کہ اس میں کسی خلل ‘ نقص ‘ رخنے ‘ بدنظمی یا عدم تناسب کا کہیں شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ اس حقیقت کی گواہی نسل انسانی نے اپنے اجتماعی علم کی بنیاد پر ہر زمانے میں دی ہے۔ ہر زمانے کے سائنس دانوں نے فلکیات ‘ ارضیات ‘ طبیعیات ‘ حیوانیات ‘ نباتات غرض سائنس کے تمام شعبوں میں حیران کن تحقیقات کی ہیں ‘ لیکن آج تک کوئی ایک محقق یا سائنسدان یہ نہیں کہہ سکا کہ قدرت کی بنائی ہوئی فلاں چیز میں فلاں نقص ہے یا یہ کہ فلاں چیز اگر ایسے کی بجائے ویسے ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتی۔ { فَارْجِعِ الْبَصَرَلا ہَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ۔ } ”پھر لوٹائو نگاہ کو ‘ کیا تمہیں کہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے ؟“