Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 32:1 hingga 32:3
الم ١ تنزيل الكتاب لا ريب فيه من رب العالمين ٢ ام يقولون افتراه بل هو الحق من ربك لتنذر قوما ما اتاهم من نذير من قبلك لعلهم يهتدون ٣
الٓمٓ ١ تَنزِيلُ ٱلْكِتَـٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٢ أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۚ بَلْ هُوَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًۭا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٍۢ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

’’یہ خدا کی کتاب ہے‘‘— بظاہر چند الفاظ کا ایک جملہ ہے۔ مگر یہ اتنا مشکل جملہ ہے کہ تاریخ میں یہ جملہ کہنے کی ہمت حقیقی طورپر ان خاص افرادکے سوا کسی کونہ ہوسکی جن پر واقعۃً خدا کی کتاب اتری تھی۔ اگر کبھی کسی اور شخص نے یہ جملہ بولنے کی جرأت کی ہے تو وہ یا تو مسخرہ تھا یا پاگل۔ اور اس کا مسخرہ یا پاگل ہونا بعد کو پوری طرح ثابت ہوگیا۔

قرآن اپنا ثبوت آپ ہے۔ اس کا معجزاتی اسلوب، اس کی کسی بات کا سیکڑوں سال میں غلط ثابت نہ ہونا، اس کا اپنے مخالفین پر پوری طرح غالب آنا، یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعا ت اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی کتاب ہے۔ اور جب وہ خدا کی کتاب ہے تو لازم ہے کہ ہر شخص اس کی چیتاونی پر دھیان دے، وہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرے۔