آیت 10 وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ الاَّ بُشْرٰی وَلِتَطْمَءِنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ ط وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ اللہ تعالیٰ تو کُنْ فَیَکُوْن کی شان کے ساتھ جو چاہے کر دے۔ وہ فرشتوں کو بھیجے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا تھا ‘ لیکن انسانی ذہن کا چونکہ سوچنے کا اپنا ایک انداز ہے ‘ اس لیے اس نے تمہارے دلوں کی تسکین اور تسلی کے لیے نہ صرف ایک ہزار فرشتے بھیجے بلکہ تمہیں ان کی آمد کی اطلاع بھی دے دی کہ خاطر جمع رکھو ‘ ہم تمہاری مدد کے لیے فرشتے بھیج رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اللہ کے وعدے کے مطابق میدان بدر میں فرشتے اترے ضرور ہیں لیکن انہوں نے عملی طور پر لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔ عملی طور پر جنگ کفار کے ایک ہزار اور مسلمانوں کے تین سو تیرہ افراد کے درمیان ہوئی اور قوت ایمانی سے سرشار مسلمان اس بےجگری اور بےخوفی سے لڑے کہ ایک ہزار پر غالب آگئے۔