آیت 73 وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا 7 حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے اہل ایمان ساتھی جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی علاقے سے ہجرت کر کے شمال مغربی کونے میں جا آباد ہوئے۔ یہ حجر کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہاں ان کی نسل آگے بڑھی اور پھر غالباً ’ ثمود ‘ نامی کسی بڑی شخصیت کی وجہ سے اس قوم کا یہ نام مشہور ہوا۔ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗط قَدْ جَآءَ تْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط۔ حضرت صالح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اس سے پہلے حضرت نوح اور حضرت ہود علیہ السلام اپنی اپنی قوموں کو دے چکے تھے۔ یہاں بَیِّنَۃ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو ان کے مطالبے پر معجزانہ طور پر چٹان سے نکلی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں کسی معجزے کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ معجزے کا ذکر سب سے پہلے حضرت صالح علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے۔ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوْہَا تَاْکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللّٰہِ وَلاَ تَمَسُّوْہَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ یہ اونٹنی تمہارے مطالبے پر تمہاری نگاہوں کے سامنے ایک چٹان سے برآمد ہوئی ہے۔ اب اسے کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرنا ‘ ورنہ اللہ کا عذاب تمہیں آلے گا۔