واذا كنت فيهم فاقمت لهم الصلاة فلتقم طايفة منهم معك ولياخذوا اسلحتهم فاذا سجدوا فليكونوا من ورايكم ولتات طايفة اخرى لم يصلوا فليصلوا معك ولياخذوا حذرهم واسلحتهم ود الذين كفروا لو تغفلون عن اسلحتكم وامتعتكم فيميلون عليكم ميلة واحدة ولا جناح عليكم ان كان بكم اذى من مطر او كنتم مرضى ان تضعوا اسلحتكم وخذوا حذركم ان الله اعد للكافرين عذابا مهينا ١٠٢
وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌۭ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوٓا۟ أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا۟ فَلْيَكُونُوا۟ مِن وَرَآئِكُمْ وَلْتَأْتِ طَآئِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا۟ فَلْيُصَلُّوا۟ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا۟ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةًۭ وَٰحِدَةًۭ ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًۭى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَن تَضَعُوٓا۟ أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا۟ حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا ١٠٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 102 وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآءِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ وَلْیَاْخُذُوْآ اَسْلِحَتَہُمْ قف فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآءِکُمْص وَلْتَاْتِ طَآءِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ یہ حکم صلوٰۃ الخوف کے بارے میں ہے۔ اس کی عملی صورت یہ تھی کہ حضور ﷺ نے ایک رکعت نماز پڑھا دی اور اس کے بعد آپ ﷺ بیٹھے رہے ‘ دوسری رکعت کے لیے کھڑے نہیں ہوئے ‘ جبکہ مقتدیوں نے دوسری رکعت خود ادا کرلی۔ دو رکعتیں پوری کر کے وہ محاذ پر واپس چلے گئے تو دوسرے گروہ کے لوگ جو اب تک نماز میں شریک نہیں ہوئے تھے ‘ نماز کے لیے حضور ﷺ کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے۔ اب حضور ﷺ نے دوسری رکعت اس گروہ کے لوگوں کی موجودگی میں پڑھائی۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے سلام پھیر دیا ‘ لیکن مقتدیوں نے اپنی دوسری رکعت انفرادی طور پر ادا کرلی۔ اس طریقے سے لشکر میں سے کوئی شخص بھی حضور ﷺ ‘ کی امامت کے شرف اور سعادت سے محروم نہ رہا۔وَلْیَاْخُذُوْا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ ج وَدَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃً ط وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَکُمْ ج وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ ط اگر تلوار ‘ نیزہ وغیرہ جسم سے بندھے ہوئے ہوں اور اس حالت میں نماز پڑھنا مشکل ہو تو یہ اسلحہ وغیرہ کھول کر علیحدہ رکھ دینے میں کوئی حرج نہیں ‘ بشر طی کہ جنگ کے حالات اجازت دیتے ہوں ‘ لیکن ڈھال وغیرہ اپنے پاس ضرور موجود رہے تاکہ اچانک کوئی حملہ ہو تو انسان اپنے آپ کو اس فوری حملے سے بچا سکے اور اپنے ہتھیار سنبھال سکے۔