انا انزلنا اليك الكتاب بالحق فاعبد الله مخلصا له الدين ٢
إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ فَٱعْبُدِ ٱللَّهَ مُخْلِصًۭا لَّهُ ٱلدِّينَ ٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 2 { اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ“ { فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ } ”پس بندگی کرو اللہ کی اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔“ اس حکم کے برعکس آج عملی طور پر ہماری زندگیوں کا نقشہ یہ ہے کہ اللہ کی بندگی بھی ہو رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ طاغوت کو بھی پوجا جا رہا ہے۔ ایک طرف نمازیں پڑھی جا رہی ہیں ‘ حج اور عمرے ادا کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حرام خوری بھی جاری ہے اور سودی کاروبار بھی چل رہا ہے۔ اللہ کو ایسی آلودہ polluted بندگی کی ضرورت نہیں۔ وہ تو اپنے بندوں سے خالص بندگی کا تقاضا کرتا ہے۔