يا ايها النبي اتق الله ولا تطع الكافرين والمنافقين ان الله كان عليما حكيما ١
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ وَلَا تُطِعِ ٱلْكَـٰفِرِينَ وَٱلْمُنَـٰفِقِينَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا ١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 1 { یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! اللہ کا تقویٰ اختیار کیجیے اور کافرین و منافقین کی باتیں نہ مانیے۔“ جس طرح لفظ امر میں ”حکم“ کے ساتھ ساتھ ”مشورہ“ کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ‘ اسی طرح ”اطاعت“ کے معنی حکم ماننے کے بھی ہیں اور کسی کی بات پر توجہ اور دھیان دینے کے بھی۔ چناچہ یہاں وَلَا تُطِع کے الفاظ میں نبی مکرم ﷺ کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی باتوں پر دھیان مت دیں۔ { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا } ”یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔“