Stai leggendo un tafsir per il gruppo di versi 23:68 a 23:71
افلم يدبروا القول ام جاءهم ما لم يات اباءهم الاولين ٦٨ ام لم يعرفوا رسولهم فهم له منكرون ٦٩ ام يقولون به جنة بل جاءهم بالحق واكثرهم للحق كارهون ٧٠ ولو اتبع الحق اهواءهم لفسدت السماوات والارض ومن فيهن بل اتيناهم بذكرهم فهم عن ذكرهم معرضون ٧١
أَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا۟ ٱلْقَوْلَ أَمْ جَآءَهُم مَّا لَمْ يَأْتِ ءَابَآءَهُمُ ٱلْأَوَّلِينَ ٦٨ أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا۟ رَسُولَهُمْ فَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٦٩ أَمْ يَقُولُونَ بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۚ بَلْ جَآءَهُم بِٱلْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَـٰرِهُونَ ٧٠ وَلَوِ ٱتَّبَعَ ٱلْحَقُّ أَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ وَٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ بَلْ أَتَيْنَـٰهُم بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ ٧١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حق وہ ہے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ مگر خواہش پرست انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ حق کو اس کی خواہش کے تابع کردیا جائے۔ اس قسم کے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ داعی جب حق بات کہتا ہے تو وہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ وہ حق کے تابع نہیں بننا چاہتے۔ اس ليے وہ چاہنے لگتے ہیں کہ حق کو ان کے تابع کردیا جائے۔ اپنی اس نفسیات کی بنا پر وہ حق کی آواز پر دھیان نہیں دیتے۔ حق ان کو اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ وہ داعی حق کو اس کی اصل حیثیت میں پہچان نہیں پاتے۔ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے وہ داعی کو مطعون کرنے لگتے ہیں۔

کائنات میں کامل درستگی نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا میں ہر طرف فساداور بگاڑ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کا نظام حق کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ یعنی وہی ہونا جو ہونا چاہيے، اور وہ نہ ہونا جو نہ ہونا چاہيے۔ اب اگر کائنات کا نظام بھی انسان کی خواہشوں پر چلنے لگے تو جو فساد انسانی دنیا میں ہے وہی فساد بقیہ کائنات میں بھی برپا ہوجائے گا۔

نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے ليے سب سے زیادہ تلخ چیز ہوتی ہے۔ بہت ہی کم وہ خداکے بندے ہیں جو نصیحت اور تنقید کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ بیشتر لوگ اس کو نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں۔