ذالك ومن يعظم حرمات الله فهو خير له عند ربه واحلت لكم الانعام الا ما يتلى عليكم فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور ٣٠
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَـٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ ۗ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ ٱلْأَنْعَـٰمُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ۖ فَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلرِّجْسَ مِنَ ٱلْأَوْثَـٰنِ وَٱجْتَنِبُوا۟ قَوْلَ ٱلزُّورِ ٣٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے، کیا چیز مقدس ہے اور کیا چیز غیر مقدس، عبادت کے کون سے طریقے درست ہیں اور کون سے طریقے درست نہیں۔ یہ سب باتیں خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے واضح طورپر بتادی ہیں۔ ان میں کسی قسم کا تغیر وتبدل جائز نہیں۔ ہر تبدیلی جو بطور خود ان چیزوں میں کی جائے وہ اللہ کے نزدیک جھوٹ ہے، بلکہ وہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ انسان کے لیے لازم ہے کہ ان چیزوں میں بالکل لفظی طورپر پیغمبرانہ تعلیمات کی پیروی کرے۔ وہ کسی حال میںان میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔

یہ امور وہ ہیں جن کی حقیقت صرف خدا کو معلوم ہے۔ آدمی جب ان میں اپنی طرف سے کوئی بات کہتا ہے تو وہ ایسی چیز کے بارے میں اپنی واقفیت کا دعویٰ کرتا ہے جس کی اسے کوئی واقفیت نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ جھوٹ ہے، بلکہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ اس سے بڑا جھوٹ اور کوئی نہیں۔