او تقولوا انما اشرك اباونا من قبل وكنا ذرية من بعدهم افتهلكنا بما فعل المبطلون ١٧٣
أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ ١٧٣
اَوْ
تَقُوْلُوْۤا
اِنَّمَاۤ
اَشْرَكَ
اٰبَآؤُنَا
مِنْ
قَبْلُ
وَكُنَّا
ذُرِّیَّةً
مِّنْ
بَعْدِهِمْ ۚ
اَفَتُهْلِكُنَا
بِمَا
فَعَلَ
الْمُبْطِلُوْنَ
۟
3

لیکن یہ اللہ کی نہایت ہی مہربانی ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد ہے۔ اور یہ کہ انسان اپنے اس فطری عہد کے باوجود انحراف اختیار کرسکتا ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے صحیح راہ سے شیاطین جن و انس منحرف کرتے ہیں اور یہ جن و انس کے شیاطین بڑی ہوشیاری سے انسان کی کمزوریوں کو کام میں لاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے رحم یہ فرمایا کہ اس نے انسان کو محض اپنی فطری صلاحیت پر ہی ذمہ دار ہدایت نہیں ٹھہرایا۔ اور نہ اپنی عقلی اور فطری قوت ادراک اور تمیز پر اس سے جواب طلبی فرمائی۔ بلکہ سا کے باوجود اللہ نے رسول بھیجے ، جنہوں نے تفصیلات کے ساتھ آیات و دلائل پیش کیے تاکہ وہ فطرت کے اوپر چڑھے ہوئے زنگ کو اتاریں۔ اسے صیقل کریں اور انسان کو خواہشات اور شہوات کی بندگی سے چھڑائیں۔ اگرچہ اللہ کو معلوم تھا کہ رسولوں اور دعوتوں کے بغیر بھی انسان کی ہدایت کے لیے اس کی فطری استعداد اور عقلی قوت کافی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے حساب و کتاب کا مدار رسالت اور دعوت پر رکھا ہے۔