لا يسام الانسان من دعاء الخير وان مسه الشر فييوس قنوط ٤٩
لَّا يَسْـَٔمُ ٱلْإِنسَـٰنُ مِن دُعَآءِ ٱلْخَيْرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَيَـُٔوسٌۭ قَنُوطٌۭ ٤٩
لَا
یَسْـَٔمُ
الْاِنْسَانُ
مِنْ
دُعَآءِ
الْخَیْرِ ؗ
وَاِنْ
مَّسَّهُ
الشَّرُّ
فَیَـُٔوْسٌ
قَنُوْطٌ
۟
3

آیت 49{ لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآئِ الْخَیْرِ } ”انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا“ یہاں بھلائی خیر سے مراد دنیوی نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی ہے۔ کسی انسان کے پاس جتنی چاہے دولت ہو اور جس قدر چاہے نعمتیں اسے میسر ہوں ‘ پھر بھی مزید حاصل کرنے کی اس کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ { وَاِنْ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ} ”اور اگر کہیں اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو بالکل مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے۔“