Vous lisez un tafsir pour le groupe d'Ayahs 12:96 à 12:97
فلما ان جاء البشير القاه على وجهه فارتد بصيرا قال الم اقل لكم اني اعلم من الله ما لا تعلمون ٩٦ قالوا يا ابانا استغفر لنا ذنوبنا انا كنا خاطيين ٩٧
فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٩٦ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـٰطِـِٔينَ ٩٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اچانک ان کے چہرے پر قمیض ڈال دی جاتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات اب بہت ہی قریب ہے ۔ اچانک معجزانہ طور پر بینائی لوٹ آتی ہے۔ یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے حاشیہ نشینوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ چیز جس کا علم ان کو تھا ۔ اور رب کی طرف سے تھا اور اسی علم کا میں نے تم نے تذکرہ کیا تھا۔

آیت نمبر 96 تا 97

یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے ناراض تھے لیکن انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ یہ وعدہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کروں گا۔ ذرا سستا لینے دو ، ذرا دل کی کدورتوں کو صاف ہونے دو اور ذرا سکون کا سانس لے لینے دو ۔