لقد ابتغوا الفتنة من قبل وقلبوا لك الامور حتى جاء الحق وظهر امر الله وهم كارهون ٤٨
لَقَدِ ٱبْتَغَوُا۟ ٱلْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُوا۟ لَكَ ٱلْأُمُورَ حَتَّىٰ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَهُمْ كَـٰرِهُونَ ٤٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 48 لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ مِنْ قَبْلُ یاد رہے کہ یہی لفظ فتنہ اس حدیث میں بھی آیا ہے جس کا ذکر علمائے سو کے کردار کے سلسلے میں قبل ازیں آیت 34 کے ضمن میں ہوچکا ہے : عُلَمَاءُ ھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَہُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ یعنی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین لوگ ہوں گے ‘ فتنہ ان ہی میں سے برآمد ہوگا اور ان ہی میں پلٹ جائے گا۔ یعنی وہ آپس میں لڑائی جھگڑوں ‘ فتویٰ پردازیوں اور تفرقہ بازیوں میں مصروف ہوں گے۔ وَقَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ یہ لوگ اپنی امکانی حدتک کوشش کرتے رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے معاملات کو تلپٹ کردیں۔حَتّٰی جَآءَ الْحَقُّ وَظَہَرَ اَمْرُ اللّٰہِ وَہُمْ کٰرِہُوْنَ یعنی جزیرہ نمائے عرب کی حد تک ان لوگوں کی خواہشوں اور کوششوں کے علی الرغم اللہ کا دین غالب ہوگیا۔