شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 9:100 تا 9:101
والسابقون الاولون من المهاجرين والانصار والذين اتبعوهم باحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه واعد لهم جنات تجري تحتها الانهار خالدين فيها ابدا ذالك الفوز العظيم ١٠٠ وممن حولكم من الاعراب منافقون ومن اهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم مرتين ثم يردون الى عذاب عظيم ١٠١
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَـٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَـٰنٍۢ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ١٠٠ وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ مُنَـٰفِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا۟ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍۢ ١٠١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

خدا کے دین کی دعوت جب بھی شروع کی جائے تودو میں سے کوئی ایک صورت پیش آتی ہے۔ یا تو ماحول اس کا دشمن ہوجاتا ہے۔ ایسے ماحول میں دین کے ليے پکارنے والے اجنبی بن جاتے ہیں ۔ وہ اپنی جگہ کے اندر بے جگہ کرديے جاتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو مہاجر (چھوڑنے والا) کہا جاتاہے۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ ماحول خدا کے دین کی دعوت کے ليے سازگار ثابت ہو۔ ایسے ماحول میں جو لوگ دین کے داعی بنتے ہیں ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آتا کہ ان کا سب کچھ ان سے چھن جائے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگر ایسا کریں کہ وہ پہلے لوگوں کا سہارا بن کر کھڑے ہو جائیں تو یہی انصار (مدد کرنے والے) قرار پاتے ہیں ۔ دورِ اول میں مکہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو مہاجر بنا دیا اور مدینہ کے حالات نے وہاں کے مسلمانوں کو انصارکی حیثیت دے دی۔

خدا کی رضامندی اور اس کی جنت کسی آدمی کو یا تو مہاجر بننے کی قیمت پر ملتی ہے یا انصار بننے کی قیمت پر۔ یا تو وہ خدا کے ليے اتنا یکسو ہوکہ دنیا کے سرے اس سے چھوٹ جائیں ۔ یا اگر وہ اپنے کو صاحب وسائل پاتا ہے تو اپنے وسائل کے ذریعہ وہ اول الذکر گروہ کی محرومی کا بدل بن جائے۔ دورِ اول کے مسلمان (صحابہ کرام) اس ہجرت ونصرت کاکامل نمونہ تھے۔ بعد کے مسلمانوں میں جو لوگ اس ہجرت ونصرت کے معاملہ میں اپنے پیش روؤں کی تقلید کریں گے وہ بالتبع اس مقدس خدائی گروہ میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔ خدا کچھ لوگوں کومحروم کرتا ہے تاکہ ان کے اندر اِنابت کا جذبہ ابھرے اسی طرح خدا کچھ لوگوں کو محرومی سے بچاتاہے تاکہ وہ محروموں کی مدد کرکے خدا کے ليے خرچ کرنے والے بنیں ۔ یہ خدا کا منصوبہ ہے۔ جو لوگ اس کا ثبوت نہ دیں ، وہ ایسے لوگ ہیں ، جو خدا کے منصوبہ پر راضی نہ ہوئے۔ اس ليے خدا بھی آخرت کے دن ان سے راضی نہ ہوگا۔

’’وہ اللہ سے راضی ہوگئے‘‘ یعنی جس کو اللہ نے ایسے حالات میں اٹھایا کہ اس کو سب کچھ چھوڑنے کی قیمت پر دین کو اختیار کرنا پڑا تو وہ اس میں ثابت قدم رہا۔ اسی طرح جس کے حالات کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ اپنے اثاثہ میں ایسے دینی بھائیوں کو شریک کرے جن سے اس کا تعلق صرف مقصد کا ہے، نہ کہ رشتہ داری کا تو وہ بھی اس پر راضی ہوگیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی خوشی حاصل کی اور یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں داخل كيے جائیں گے۔

منافق وہ ہے جو مسلمان ہونے کا دعوی کرے مگر جب ہجرت اور نصرت کی قیمت پر دین دار بننے کا سوال ہو تو اس کے ليے اپنے کو راضی نہ کرسکے۔