وعلى الذين هادوا حرمنا كل ذي ظفر ومن البقر والغنم حرمنا عليهم شحومهما الا ما حملت ظهورهما او الحوايا او ما اختلط بعظم ذالك جزيناهم ببغيهم وانا لصادقون ١٤٦
وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِى ظُفُرٍۢ ۖ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ وَٱلْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلْحَوَايَآ أَوْ مَا ٱخْتَلَطَ بِعَظْمٍۢ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَـٰهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ ١٤٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 146 وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ج۔کچھ جانوروں کے پاؤں پھٹے ہوئے ہوتے ہیں ‘ جیسے گائے ‘ بکری وغیرہ ‘ جب کہ کچھ جانوروں کا ایک ہی پاؤں کھر ہوتا ہے۔ ایسے ایک کھر والے جانور مثلاً گھوڑا ‘ گدھا وغیرہ یہودیوں پر حرام کردیے گئے تھے۔ جیسا کہ ہم پڑھ آئے ہیں ‘ یہودیوں پر جو چیزیں حرام کی گئیں تھیں ‘ ان میں سے بعض تو اصلاً حرام تھیں مگر کچھ چیزیں ان کی شرارتوں اور نا فرمانیوں کی وجہ سے بطور سزا ان کے لیے حرام کردی گئی تھیں۔ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُوْمَہُمَآ اِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُوْرُہُمَآ اَوِ الْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ط۔ ذٰلِکَ جَزَیْنٰہُمْ بِبَغْیِہِ مْز یعنی اس قسم کے جانوروں کی عام کھلی چربی ان کے لیے حرام تھی۔ لیکن یہ حکم آسمانی شریعت کا مستقل حصہ نہیں تھا ‘ بلکہ ان کی شرارتوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے یہ تنگی ان پر بطور سزا کی گئی تھی۔