رسولا يتلو عليكم ايات الله مبينات ليخرج الذين امنوا وعملوا الصالحات من الظلمات الى النور ومن يومن بالله ويعمل صالحا يدخله جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ابدا قد احسن الله له رزقا ١١
رَّسُولًۭا يَتْلُوا۟ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَـٰتٍۢ لِّيُخْرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۚ وَمَن يُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعْمَلْ صَـٰلِحًۭا يُدْخِلْهُ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ قَدْ أَحْسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزْقًا ١١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 1 1{ رَّسُوْلًا یَّـتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُـبَـیِّنٰتٍ لِّـیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ”یعنی ایک رسول ﷺ جو اللہ کی آیات بینات تم لوگوں کو پڑھ کر سنا رہا ہے ‘ تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اندھیروں سے نور کی طرف۔“ یہاں وضاحت کردی گئی کہ ذکر سے مراد اللہ کا رسول ﷺ اور اللہ کی کتاب اٰیٰتِ اللّٰہِ مُـبَـیِّنٰتٍ ہے۔ سورة البینہ میں اس موضوع کی مزید وضاحت آئی ہے۔ { وَمَنْ یُّؤْمِنْم بِاللّٰہِ وَیَعْمَلْ صَالِحًا } ”اور جو کوئی اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے“ دین کے تقاضوں کا درست فہم نہ ہونے کی وجہ سے آج ہمارے ہاں ”اعمالِ صالحہ“ کا تصور بھی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اعمالِ صالحہ سے اصل مراد یہ ہے کہ ایک بندئہ مومن ایمان کے جملہ تقاضوں کو پورا کرے۔ مکی دور میں جبکہ ابھی شراب ‘ جوا ‘ سود وغیرہ کی حرمت نہیں آئی تھی اور نماز ‘ روزہ ‘ جہاد و قتال وغیرہ کا حکم نہیں آیا تھا ‘ اس دور میں اہل ایمان کے لیے ”اعمالِ صالحہ“ یہی تھے کہ وہ ایمان کی دعوت دیں اور اس راستے پر جو تکلیفیں اور آزمائشیں آئیں انہیں استقامت سے برداشت کریں۔ پھر مدنی دور میں جیسے جیسے مزیداحکام آتے گئے ویسے ویسے ایمان کے تقاضے بھی بڑھتے گئے اور رفتہ رفتہ نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ عشر ‘ حج ‘ انفاق ‘ جہاد و قتال وغیرہ بھی اعمالِ صالحہ میں شامل ہوگئے۔ گویا جس وقت ایمان کا جو تقاضا ہو اسے پورا کرنے کا نام ”عمل صالحہ“ ہے۔ آج ایک عام مسلمان جب قرآن میں ”عمل صالحہ“ کی اصطلاح پڑھتا ہے تو اس سے اس کے ذہن میں صرف نماز ‘ روزہ اور ذکر اذکار کا تصور ہی آتا ہے ‘ جبکہ منکرات کے خلاف جدوجہد اور اقامت دین کے لیے محنت جیسے اہم تقاضوں کو آج اعمالِ صالحہ کی فہرست سے ہی خارج کردیا گیا ہے۔ تو جو کوئی ایمان لانے کے بعد ایمان کے تقاضوں کو بھی پورا کرے گا : { یُّدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَـآ اَبَدًا } ”وہ اسے داخل کرے گا ان باغات میں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی ‘ جن میں وہ لوگ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔“ { قَدْ اَحْسَنَ اللّٰہُ لَـہٗ رِزْقًا۔ } ”اللہ نے اس کے لیے بہت عمدہ رزق فراہم کیا ہے۔“