الذين يظاهرون منكم من نسايهم ما هن امهاتهم ان امهاتهم الا اللايي ولدنهم وانهم ليقولون منكرا من القول وزورا وان الله لعفو غفور ٢
ٱلَّذِينَ يُظَـٰهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَآئِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَـٰتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَـٰتُهُمْ إِلَّا ٱلَّـٰٓـِٔى وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًۭا مِّنَ ٱلْقَوْلِ وَزُورًۭا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌۭ ٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 2 { اَلَّذِیْنَ یُظٰہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِہِمْ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ } ”اے مسلمانو ! تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو مائیں کہہ بیٹھتے ہیں ‘ وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔“ جس طرح کسی کو کوئی بیٹا کہہ دے تو وہ اس کا بیٹا نہیں بن جاتا اور جس طرح منہ بولے بیٹے کی کوئی قانونی و شرعی حیثیت نہیں اسی طرح زبان سے اگر کوئی اپنی بیوی کو اپنی ماں کہہ دے تو ایسے کسی دعوے یا جملے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ { اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا اللّٰٓئِیْ وَلَدْنَہُمْ } ”ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے۔“ { وَاِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا } ”البتہ یہ لوگ ایک نہایت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔“ یہ لوگ اپنی بیویوں کو اپنی مائیں کہہ کر ایک نہایت بےہودہ ‘ شرمناک اور نامعقول بات منہ سے نکالتے ہیں۔ پھر یہ بات جھوٹی بھی ہے کہ ان کی بیویاں ان کے لیے اب مائیں ہوگئی ہیں۔ { وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ } ”اور یقینا اللہ بہت معاف فرمانے والا ‘ بہت بخشنے والا ہے۔“ ان الفاظ میں یہ اشارہ دے دیا گیا کہ ظہار سے متعلق چونکہ ابھی تک کوئی قانون نازل نہیں ہوا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ مذکورہ صحابی رض کو اس معاملے میں معاف فرما دے گا ‘ بلکہ اس سے پہلے جس کسی سے بھی یہ حرکت سرزد ہوئی ‘ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے گا۔