۞ كذبت قبلهم قوم نوح فكذبوا عبدنا وقالوا مجنون وازدجر ٩
۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍۢ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٌۭ وَٱزْدُجِرَ ٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

کذبت ............ نوح (54: 9) ” ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا “ انہوں نے آیات الٰہی کو بھی جھٹلایا اور رسالت کو بھی۔

فکذبوا عبدنا (54: 9) ” انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا “ یعنی نوح کو۔

وقالو مجنون (54: 9) ” اور کہا یہ دیوانہ ہے “ جس طرح قریش نے نبی ﷺ کو کہا کہ مجنوں ہے اور انہوں نے حضرت نوح کو دھمکی دی کہ ہم تمہیں رجم کردیں گے اور مزاح کرکے اذیت دی اور انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ہم پر تنقید کرنے سے باز آجاؤ اور آپ کو سخت دھمکیاں اور جھڑکیاں دیں۔

وازدجر (54: 9) ” اور بری طرح جھڑکا گیا “ حالانکہ مناسب یہ تھا کہ وہ خود باز آتے اور ان کی اطاعت کرتے۔

اس نوبت تک پہنچ کر حضرت نوح رب تعالیٰ کی طرف دست بدعا ہوتے ہیں کیونکہ اللہ ہی نے ان کو اس مہم پر بھیجا تاکہ آپ اللہ کو وہ رپورٹ دے دیں کہ قوم نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے اور یہ کہ میں نے اس قدر جدوجہد کی ہے اور اب میری قوت نے جواب دے دیا ہے۔ حضرت نے اس وقت اللہ کو پکارا جب نہ کوئی حیلہ رہا اور نہ طاقت رہی۔ انہوں نے تمام حربے آزمائے۔