۞ فما لكم في المنافقين فيتين والله اركسهم بما كسبوا اتريدون ان تهدوا من اضل الله ومن يضلل الله فلن تجد له سبيلا ٨٨
۞ فَمَا لَكُمْ فِى ٱلْمُنَـٰفِقِينَ فِئَتَيْنِ وَٱللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓا۟ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا۟ مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلًۭا ٨٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 88 فَمَا لَکُمْ فِی الْْمُنٰفِقِیْنَ فِءَتَیْنِ وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط بات آگے واضح ہوجائے گی کہ یہ کن منافقین کا تذکرہ ہے ‘ جن کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان دو رائیں پائی جاتی تھیں۔ اہل ایمان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے ‘ آخر یہ ایمان تو لائے تھے نا ‘ اب نہیں ہجرت کرسکے۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے حکم کے معاملے میں ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کے حق میں تھے۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہو ؟وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط۔ان کا ہجرت نہ کرنا درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ الٹے پھیر دیے گئے ہیں۔ یعنی ان کا ایمان سلب ہوچکا ہے۔ ہاں کوئی مجبوری ہوتی ‘ عذر ہوتا تو بات تھی۔ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَہْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط جن کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے۔وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلاً جس کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے آخری مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہو اس کے لیے پھر کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے ؟