۞ شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذي اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه كبر على المشركين ما تدعوهم اليه الله يجتبي اليه من يشاء ويهدي اليه من ينيب ١٣
۞ شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحًۭا وَٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِۦٓ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓ ۖ أَنْ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا۟ فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى ٱلْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ ٱللَّهُ يَجْتَبِىٓ إِلَيْهِ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ١٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 13 { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا } ”اے مسلمانو ! اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح علیہ السلام کو کی تھی“ یہ براہ راست امت سے خطاب ہے۔ مکی سورتوں میں چونکہ عام طور پر اہل ایمان کو ”یٰٓــاَیُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“ کے الفاظ سے براہ راست مخاطب نہیں کیا جاتا اس لیے یہاں جمع کا یہ صیغہ شَرَعَ لَـکُمْ استعمال فرمایا گیا ہے۔ مکی سورتوں میں اس حوالے سے ہمیں دوسرا اسلوب یہ بھی ملتا ہے کہ صیغہ واحد میں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے اہل ِ ایمان کو پیغام پہنچایا جاتا ہے۔ { وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی } ”اور جس کی وحی ہم نے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی طرف کی ہے ‘ اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو“ { اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ } ”کہ قائم کرو دین کو۔“ اس آیت سے ایک تو یہ معلوم ہوا ہے کہ حضرات نوح ‘ ابراہیم ‘ موسیٰ ‘ عیسیٰ علیہ السلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کا ‘ یعنی تمام پیغمبروں کا دین ایک ہی ہے۔ یہی مضمون سورة الانبیاء میں اس طرح آیا ہے : { اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًز وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ۔ } ”یقینا یہ تمہاری امت ‘ ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں ‘ لہٰذا تم لوگ میری ہی بندگی کرو“۔ یعنی تمام انبیاء ورسل علیہ السلام اور ان کی امتوں کا دین ایک ہی تھا۔ ان کے درمیان اگر کوئی فرق یا اختلاف تھا تو وہ شریعتوں میں تھا۔ دوسری اہم بات اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اقامت دین کا فریضہ ان تمام پیغمبروں کو سونپا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کو اس سلسلے میں جو حکم ملا تھا اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے کہ تم لوگ ارض فلسطین کو فتح کرنے کے لیے جہاد کرو۔ ظاہر ہے اس خطہ پر قبضہ کرنے کا مقصد اللہ کے دین کو وہاں بالفعل نافذ کرنا تھا۔ چناچہ اقامت دین کی جدوجہد ماقبل امتوں پر بھی فرض تھی۔ بہر حال اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے حکم کا خلاصہ یہی ہے کہ زبان سے صرف عقیدئہ توحید کا اقرار کرلینا کافی نہیں بلکہ اس عقیدے کا رنگ اپنے اعمال پر بھی چڑھائو ‘ اور نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر اپنے معاشرے کی اعلیٰ ترین ریاستی اور حکومتی سطح پر اس کی تنفیذ و تعمیل کو یقینی بنائو۔ واضح رہے کہ مترجمین نے بالعموم { اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ } کا ترجمہ کیا ہے : ”کہ دین کو قائم رکھو !“ یہ بھی درست ہے ‘ کیونکہ اقامت دین کے حوالے سے کسی معاشرے میں دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ یا تو وہاں دین قائم ہے یا قائم نہیں ہے۔ چناچہ اس حکم کا منشاء یہ ہے کہ اگر دین پہلے قائم ہے تو اسے قائم رکھو اور اگر قائم نہیں ہے تو اسے قائم کرو۔ مثلاً خیمہ اگر کھڑ ا ہے تو اسے گرنے سے بچانا ہے اور اگر پہلے سے کھڑا نہیں ہے تو اسے کھڑا erect کرنا ہے۔ { وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ } ”اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔“ یعنی تم لوگ اپنے دین کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے نہ کردو۔ ایسانہ ہو کہ کسی ایک معاملے میں تو تم اللہ کا حکم مانو اور کسی دوسرے معاملے میں کسی اور کی خوشنودی کے طالب بن جائو۔ اسی رویے اور طریقے کو تفرقہ کہا جاتا ہے جس سے یہاں منع کیا جا رہا ہے۔ سورة الانعام : 159 کے الفاظ { اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ…} میں بھی ایسے ہی تفرقے کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ فروعی مسائل میں ایک دوسرے کی رائے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ‘ یہ تفرقہ نہیں ہے۔ مثلاً میں اگر رفع یدین کرتا ہوں اور میرے کئی ساتھی امام ابوحنیفہ رح کے موقف کو زیادہ صحیح سمجھتے ہوئے رفع یدین کے بغیر نماز پڑھتے ہیں تو ایسے اختلاف میں کوئی حرج نہیں ‘ جبکہ بنیادی طور پر دین میں تفریق یا تفرقے کا طرز عمل نہ اپنایا جائے اور اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ حنفی ‘ مالکی ‘ شافعی ‘ حنبلی اور سلفی سب کے سب ایک ہی دین یعنی اسلام کے ماننے والے ہیں۔ اسی طرح مختلف پیغمبروں کی شریعتوں میں بھی اختلاف ہوسکتا ہے ‘ مثلاً اب شریعت ِمحمدی ﷺ کا زمانہ ہے ‘ اس سے پہلے شریعت موسوی علیہ السلام کا دور تھا اور اس سے پہلے کوئی اور شریعت تھی۔ لیکن یہ نکتہ بہر حال واضح رہنا چاہیے کہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کا دین ایک ہی تھا یعنی اسلام۔ { کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْہُمْ اِلَیْہِ } ”اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت بھاری ہے مشرکین پر یہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں۔“ مشرکین کی زندگی تو اسی تفریق و تقسیم پر چل رہی ہے۔ وہ تو اس نظریی پر عمل پیرا ہیں کہ ”جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو اور جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو“۔ ہمارے ہاں بھی ایسی ہی تقسیم پر دنیا کے معاملات چل رہے ہیں کہ جو حکومت کا حق ہے وہ حکومت کو دو اور جو مولوی کا حق ہے وہ مولوی کو دو۔ اور فرض کریں اگر علماء بھی اس تقسیم پر راضی ہوجائیں کہ چلیں ہمارا کام تو چل ہی رہا ہے تو ایسی صورت حال میں دین کی تو گویا نفی ہوجائے گی ‘ کیونکہ دین تو اللہ کی ُ کلی ّاطاعت کا نام ہے۔ چناچہ جس کسی نے بھی دین میں کسی ایسی تفریق یا تقسیم پر اپنے دل کو مطمئن کرلیا اس کا گویا اللہ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں رہا۔ چناچہ مشرکین جو اللہ اور بتوں کے درمیاں اپنے ”دین“ کی تقسیم پر مطمئن ہیں انہیں توحید خالص کی دعوت بری تو لگے گی۔ مشرکین کے اس بغض وعناد کا ذکر سورة التوبہ : 33 اور سورة الصف : 9 میں اس طرح ہوا ہے : { ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖلا وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ 4 } ”وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ غالب کرے اسے ُ کل کے کل دین نظامِ زندگی پر ‘ خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے“۔ ظاہر ہے نظام توحید کے قیام اور دین حق کے غلبے کی صورت میں مشرکین کے دلوں میں کڑھن تو بہت ہوگی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اپنے رسول ﷺ کو بھیجا ہی اسی لیے ہے کہ وہ اللہ کے دین کو پورے نظام زندگی پر غالب کر دے۔ { اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ } ”اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف آنے کے لیے ُ چن لیتا ہے“ یہ اللہ کی شان عطا ہے کہ کبھی کبھی وہ کسی راہ چلتے مسافر کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ صوفیاء کے ہاں اس حوالے سے ”سالک مجذوب“ اور ”مجذوب سالک“ کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ ”سالک مجذوب“ اللہ کے وہ مقرب بندے ہیں جو ”سلوک“ کی کئی کئی کٹھن منازل طے کر کے قرب و جذب کے مقام تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں۔ ”صدیقین“ عام طور پر محنت و ریاضت کے اسی راستے سے مقام قرب تک پہنچتے ہیں۔ ان کے برعکس ”مجذوب سالک“ وہ خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کسی خاص موقع پر بلا تمہید اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ایسے لوگ ”مقامِ قرب“ پر فائز ہوجانے کے بعد منازلِ سلوک طے کرتے ہیں اور یہ مقام و مرتبہ اکثر و بیشتر ”شہداء“ کے حصے میں آتا ہے۔ حضرت عمر رض کو اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اپنی طرف کھینچ لیا تھا ‘ ورنہ اس ”حسین اتفاق“ سے پہلے نہ تو آپ رض کا مزاج اس ”مقامِ شوق“ سے کچھ مطابقت رکھتا تھا اور نہ ہی آپ رض کے معمولات ومشاغل میں ایسے کسی ”رجحان“ کا رنگ پایا جاتا تھا۔ صدیقین اور شہداء کے اصطلاحی مفہوم کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة مریم : 41 کی تشریح۔ { وَیَہْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ } ”اور وہ اپنی طرف ہدایت اسے دیتا ہے جو خود رجوع کرتا ہے۔“