شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 40:36 تا 40:37
وقال فرعون يا هامان ابن لي صرحا لعلي ابلغ الاسباب ٣٦ اسباب السماوات فاطلع الى الاه موسى واني لاظنه كاذبا وكذالك زين لفرعون سوء عمله وصد عن السبيل وما كيد فرعون الا في تباب ٣٧
وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَـٰهَـٰمَـٰنُ ٱبْنِ لِى صَرْحًۭا لَّعَلِّىٓ أَبْلُغُ ٱلْأَسْبَـٰبَ ٣٦ أَسْبَـٰبَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّى لَأَظُنُّهُۥ كَـٰذِبًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِ ۚ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ إِلَّا فِى تَبَابٍۢ ٣٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے جو بات کہی وہ کوئی سنجیدہ بات نہیں تھی بلکہ محض ایک وقتی تدبیر (کید) کے طور پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ رجل مومن کی معقول اور مدلّل تقریر سے دربار کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، اس ليے اس نے چاہا کہ ایک شوشہ کی بات نکالے تاکہ حضرت موسیٰ کی دعوت سنجیدہ بحث کا موضوع نہ بنے بلکہ مذاق کا موضوع بن کر رہ جائے۔

’’بدعملی کا خوشنما بننا‘‘ یہ ہے کہ آدمی کچھ خوش نما الفاظ بول کر حق کو رد کردے۔ یہی آدمی کی گمراہی کی اصل جڑ ہے۔ یعنی حقیقی دلائل کے مقابلہ میں شوشہ کی بات کو اہمیت دینا، کھلی بے راہ روی کو جھوٹی توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرنا وغیرہ۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جو حق محکم دلیل کے اوپر کھڑا ہوا ہو اس کو بےبنیاد شوشے نکال کر مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔