ان الذين يكفرون بايات الله ويقتلون النبيين بغير حق ويقتلون الذين يامرون بالقسط من الناس فبشرهم بعذاب اليم ٢١
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ وَيَقْتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِٱلْقِسْطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٢١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 21 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِلا اس لیے کہ انصاف کی بات تو بالعموم کسی کو پسند نہیں ہوتی۔ اَلْحَقُّ مُرٌّ حق بات کڑوی ہوتی ہے۔ بہت سے مواقع پر کسی حق گو انسان کو حق گوئی کی پاداش میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ یہاں پھر عدل و قسط کا معاملہ آیا ہے۔ اللہ خود قَآءِمًا بالْقِسْطِہے اور اللہ کے محبوب بندے وہی ہیں جو عدل کا حکم دیں ‘ انصاف کا ڈنکا بجانے کی کوشش کریں۔ تو فرمایا کہ جو ایسے لوگوں کو قتل کریں۔۔فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔لفظ بشارتیہاں طنز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔