ان الذين كفروا لن تغني عنهم اموالهم ولا اولادهم من الله شييا واولايك هم وقود النار ١٠
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًۭٔا ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ وَقُودُ ٱلنَّارِ ١٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

خدا کسی آدمی کو ذکر و فکر کی سطح پر ملتاہے۔ یعنی آدمی سوچ کے ذریعہ سے خدا کو پاتا ہے۔ خدا نے موجودہ دنیا میں اپنے دلائل بکھیر دئے ہیں، آدمی کی اپنی ذات میں، باہر کی کائنات میں اور پھر پیغمبر کی تعلیمات میں۔ جو لوگ ان خدائی نشانیوں میں غور کریں گے وہی خدا کو پائیں گے۔

دلیل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ ایک شخص کے سامنے سچی دلیل آئے اور وہ اس کو نظر انداز کردے تو گویا کہ اس نے خدا کو نظر انداز کیا۔ ایسے لوگوں کےلیے خدا کے یہاں ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔