ان تكفروا فان الله غني عنكم ولا يرضى لعباده الكفر وان تشكروا يرضه لكم ولا تزر وازرة وزر اخرى ثم الى ربكم مرجعكم فينبيكم بما كنتم تعملون انه عليم بذات الصدور ٧
إِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا۟ يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

خدا کو ماننااور اس کا شکر گزار بننا خود انسانی عقل کا تقاضا ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ِ واقعہ کا اعتراف ہے اور حقیقت ِ واقعہ کا اعتراف بلا شبہ سب سے بڑا عقلی تقاضا ہے۔

آخرت عدلِ کامل کا ظہور ہے اور یہ ناممکن ہے کہ عدل کامل کی دنیا میں وہ ناقص صورت حال جاری رہے جو موجودہ دنیا میں نظر آتی ہے۔ عدل کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی عین وہی ثابت ہو جو کہ فی الواقع وہ ہے، اور عین وہی پائے جس کا وہ حقیقۃً مستحق تھا۔ موجودہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ آخرت اس ليے آئے گی کہ وہ دنیا کی اس کمی کو دور کرے، وہ ناقص دنیا کو آخری حد تک کامل دنیا بنادے۔