واقسموا بالله جهد ايمانهم لين جاءهم نذير ليكونن اهدى من احدى الامم فلما جاءهم نذير ما زادهم الا نفورا ٤٢
وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ لَئِن جَآءَهُمْ نَذِيرٌۭ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى ٱلْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِيرٌۭ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا ٤٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 42{ وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَآئَ ہُمْ نَذِیْـرٌ لَّـیَکُوْنُنَّ اَہْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ } ”اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والاآیا تو وہ لازماً ہدایت یافتہ ہوجائیں گے کسی بھی امت سے بڑھ کر۔“ { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَہُمْ اِلَّا نُفُوْرَا } ”پھر جب آگئے ان کے پاس خبردار کرنے والے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس چیز نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا۔“ جب محمد عربی ﷺ نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے انہیں دعوت دینا شروع کی تو وہ آپ ﷺ کی دعوت سے بدکنے اور دور بھاگنے لگے۔