ولا تزر وازرة وزر اخرى وان تدع مثقلة الى حملها لا يحمل منه شيء ولو كان ذا قربى انما تنذر الذين يخشون ربهم بالغيب واقاموا الصلاة ومن تزكى فانما يتزكى لنفسه والى الله المصير ١٨
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌۭ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰٓ ۗ إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِٱلْغَيْبِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِۦ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيرُ ١٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 18 { وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } ”اور کوئی جان نہیں اٹھائے گی کسی دوسری جان کا بوجھ۔“ { وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِہَا } ”اور اگر بوجھ تلے دبی کوئی جان کسی کو پکارے گی اپنے بوجھ کے ہٹانے کے لیے“ { لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْئٌ وَّلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی } ”تو نہیں اٹھائے گا کوئی اس میں سے کچھ بھی اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہو۔“ میدانِ حشر میں اگر کوئی گنہگار اپنے گناہوں کے بوجھ کو ناقابل برداشت پا کر اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو بھی مدد کے لیے پکارے گا تو وہ بھی بیگانوں کی طرح اس کے قریب سے گزر جائے گا اور اس کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ { اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ تو انہی لوگوں کو خبردار کرسکتے ہیں جو ڈرتے ہیں اپنے ربّ سے غیب میں رہتے ہوئے اور نماز قائم کرتے ہیں۔“ اللہ پر ایمان لانے اور اس سے ڈرنے کی اہمیت تو اسی وقت تک ہے جب تک کہ غیب کے پردے حائل ہیں۔ جب یہ پردے اٹھ جائیں گے اس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا۔ اس وقت تو بڑے بڑے سر کش اور نافرمان لوگ بھی سر تسلیم خم کردیں گے۔ { وَمَنْ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفْسِہٖ } ”اور جو کوئی بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے۔“ { وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ } ”اور اللہ ہی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔“