آیت 12 { وَمَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِق } ”اور دو سمندر ایک جیسے نہیں ہیں“ { ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَہٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ} ”یہ میٹھا ہے فرحت بخش ‘ اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے سخت کڑوا۔“ { وَمِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا } ”اور ان سب سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت“ دونوں طرح کے سمندروں سے تم لوگ مچھلیاں شکار کر کے کھاتے ہو۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کھاری سمندر کی مچھلیوں کا گوشت کڑوا ہو اور میٹھے پانی کی مچھلیاں کھانے میں خوش ذائقہ ہوں۔ { وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَہَاج } ”اور دونوں سے ہی تم نکالتے ہو زیورات جنہیں تم پہنتے ہو۔“ { وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ } ”اور تم دیکھتے ہوکشتیوں کو کہ چلتی ہیں اس کے سینے کو چیرتے ہوئے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر اداکرو۔“