شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 25:53 تا 25:54
۞ وهو الذي مرج البحرين هاذا عذب فرات وهاذا ملح اجاج وجعل بينهما برزخا وحجرا محجورا ٥٣ وهو الذي خلق من الماء بشرا فجعله نسبا وصهرا وكان ربك قديرا ٥٤
۞ وَهُوَ ٱلَّذِى مَرَجَ ٱلْبَحْرَيْنِ هَـٰذَا عَذْبٌۭ فُرَاتٌۭ وَهَـٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌۭ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًۭا وَحِجْرًۭا مَّحْجُورًۭا ٥٣ وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ مِنَ ٱلْمَآءِ بَشَرًۭا فَجَعَلَهُۥ نَسَبًۭا وَصِهْرًۭا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًۭا ٥٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

جب کسی سنگم پر دو دریا ملتے ہیں یا کوئی بڑا دریا سمندر میں جاکر گرتاہے تو ایسے مقام پر باہم ملنے کے باوجود دونوں پانی الگ الگ رہتا ہے۔ دونوں کے بیچ میں ایک دھاری دور تک جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ راقم الحروف نےیہ منظر الٰہ آباد میں گنگا اور جمنا کے سنگم پر دیکھا ہے۔ یہ واقعہ اس قدرتی قانون کے تحت ہوتا ہے جس کو موجودہ زمانہ میں سطحی تناؤ (surface tension) کہاجاتا ہے۔ اسی طرح جب سمندر میں جوار بھاٹا آتا ہے تو سمندر کا کھاری پانی ساحلی دریا کے میٹھے پانی کے اوپر چڑھ جاتاہے۔ مگر سطحی تناؤ دونوں پانی کو بالکل الگ رکھتا ہے۔اور جب سمندر کا پانی دوبارہ اترتا ہے تو اس کا کھاری پانی اوپر اوپر سے واپس چلا جاتاہے اور نیچے کا میٹھا پانی بدستور اپنی سابقہ حالت پر باقی رہتا ہے۔ حتی کہ اسی سطحی تناؤ کے قانون کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ کھاری سمندروں کے عین بیچ میں میٹھے پانی کے ذخیرے موجود رہیں اور بحری مسافروں کو میٹھا پانی فراہم کرسکیں۔

انسانی جسم کی اصل پانی ہے۔ پانی سے انسان جیسی حیرت انگیز نوع بنی۔ پھر نسبی تعلقات اور سسرالی روابط کے ذریعے اس کی نسل چلتی رہی— اس طرح کے مختلف واقعات جو زمین پر پائے جاتے ہیں ان پر غور کیا جائے تو ان میں خدا کی قدرت کی نشانیاں چھپی ہوئی نظر آئیں گی۔