وما ارسلنا قبلك من المرسلين الا انهم لياكلون الطعام ويمشون في الاسواق وجعلنا بعضكم لبعض فتنة اتصبرون وكان ربك بصيرا ٢٠
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ إِلَّآ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى ٱلْأَسْوَاقِ ۗ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍۢ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ ۗ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًۭا ٢٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

قرآن کے مخاطبین اوّل حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت موسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو مانتے تھے۔ اس کے باوجود انھوںنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کردیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گزرے ہوئے پیغمبروں کو اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے کے ليے بطور خود طلسماتی کہانیاں وضع کرتے ہیں۔ ان کہانیوں میں ان کے سابق پیغمبر کی شخصیت ایک پر عجوبہ شخصیت کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔اب اس کے بعد جب ان کا ہم عصر نبی ان کے سامنے آتا ہے تو وہ بظاہر صرف ایک انسان دکھائی دیتا ہے۔ ان کے تصور میں ایک طرف ماضی کا پیغمبر ہوتا ے جو ان کو فوق البشر ہستی معلوم ہوتا ہے۔ دوسری طرف زندہ پیغمبر ہوتاہے جو صرف ایک بشر کے روپ میں نظر آتا ہے۔ اس تقابل میں وہ حال کے پیغمبر پر یقین نہیں کرپاتے۔ وہ پیغمبری کو مانتے ہوئے پیغمبر کا انکار کردیتے ہیں۔

منکرین کے ليے رسول اور اہل ایمان آزمائش ہیں۔ اور رسول اور اہل ایمان کے ليے منکرین آزمائش ہیں۔ منکرین کی آزمائش یہ ہے کہ وہ رسول کے بظاہر بے عظمت حلیہ میں اس کے اندر چھپی ہوئی عظمت کو دریافت کریں۔ اور اہل ایمان کی آزمائش یہ ہے کہ وہ منکرین کی لایعنی باتوں پر بے برداشت نہ ہوں۔ وہ ہر حال میں صابر و شاکر بنے رہیں۔