واما الجدار فكان لغلامين يتيمين في المدينة وكان تحته كنز لهما وكان ابوهما صالحا فاراد ربك ان يبلغا اشدهما ويستخرجا كنزهما رحمة من ربك وما فعلته عن امري ذالك تاويل ما لم تسطع عليه صبرا ٨٢
وَأَمَّا ٱلْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَـٰمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِى ٱلْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُۥ كَنزٌۭ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَـٰلِحًۭا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُۥ عَنْ أَمْرِى ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًۭا ٨٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آیت 82 وَاَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي الْمَدِيْنَةِ وَكَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًاباپ نے جب دیکھا ہوگا کہ میرا آخری وقت قریب آ لگا ہے اور میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں تو اس نے اپنی ساری پونجی اکٹھی کر کے دیوار کی بنیاد میں دفن کردی ہوگی اس امید پر کہ جب وہ بڑے ہوں گے تو نکال لیں گے۔ لیکن اگر وہ دیوار وقت سے پہلے ہی گر جاتی تو اس بستی کے نا ہنجار لوگ جو کسی مسافر کو کھانا کھلانے کے بھی روادار نہیں ان یتیموں کا دفینہ لوٹ کرلے جاتے۔فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ يَّبْلُغَآ اَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا باپ چونکہ نیک آدمی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیوار کی مرمت کا اہتمام کر کے اس کے کمسن یتیم بچوں کی بھلائی کا سامان کیا گیا۔رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ یعنی یہ تمام امور اللہ کی رحمت کا مظہر تھے۔ یہ اللہ ہی کے فیصلے تھے اور اسی کے حکم سے ان کی تنفیذ و تعمیل کی گئی۔ میں نے اپنی مرضی سے ان میں سے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان امور کے سلسلے میں اللہ کے احکام کی تنفیذ کرنے والے اللہ کے وہ بندے حضرت خضر تھے کوئی اور ولی اللہ تھے یا کوئی فرشتہ تھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اس سارے واقعہ میں اصل بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے ایسے تمام بندے کارکنان قضا و قدر کی فوج کے سپاہی ہیں اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے جن احکام کی تنفیذ کر رہے ہیں ان کا تعلق شریعت سے نہیں بلکہ تکوینی امور سے ہے۔ دنیا میں جو واقعات و حادثات رونما ہوتے ہیں ہم صرف ان کے ظاہری پہلو کو دیکھ کر ہی ان پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں یا دل گرفتہ ہوتے ہیں۔ بہر حال ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ ہوتا ہے اس میں خیر اور بھلائی ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے تمام معاملات میں ”تفویض الامر“ کا رویہ اپناتے ہوئے راضی برضائے رب رہنا چاہیے کہ : ”ہرچہ ساقی ما ریخت عین الطاف است !“