اللہ تعالیٰ نے ایک طرف یہ کیا کہ اصحابِ کہف پر مسلسل نیند طاری کردی۔ اسی کے ساتھ ان کی حفاظت کے مختلف انتظامات فرما دیے۔ مثلاً وہ برابر کروٹیں لیتے رہتے تھے۔ کیوں کہ حضرت ابن عباس کے الفاظ میں، اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کا جسم زمین کھا جاتی(لَوْ أَنَّهُمْ لَا يُقَلَّبُونَ لَأَكَلَتْهُمُ الْأَرْضُ)تفسیر الطبری، جلد