خدا نے موجودہ دنیا کو خاص قوانین کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ سمندر میں اپنا جہاز چلائے اور ہوامیں اپنی سواریاں دوڑائے۔ یہ سب اس لیے تھا کہ انسان اپنے حق میں اپنے خدا کی رحمتوں کو پہچانے اور اس کاشکر گزار بنے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہوئے دیکھتاہے وہ سمجھتا ہے کہ اس کو بس ایسا ہی ہونا ہے۔ وہ ایک ارادی واقعہ کو اپنے آپ ہونے والا واقعہ فرض کرلیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کو دیکھ کر اس کے اندر کوئی خدائی احساس نہیں جاگتا۔
خدا کی معرفت اتنی حقیقی ہے کہ وہ انسان کی فطرت کے اندر آخری گہرائی تک پیوست ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ اس وقت ہوتاہے جب کہ اس پر کوئی آفت آپڑے جس کے مقابلہ میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرے۔ مثلاً اتھاہ سمندر میں طوفان کا آنا اور جہاز کا اس کے اندر پھنس جانا۔ اس طرح کے لمحات میں انسان کے اوپر سے اس کے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں وہ ایک خدا کو پہچان کراسے پکارنے لگتاہے۔
یہ وقتی تجربہ انسان کو اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی پوری زندگی کو اس پر ڈھال لے۔ وہ وقتی اعتراف کو اپنا مستقل ایمان بنالے۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ سمندر کے طوفان میں وہ جس حقیقت کو یاد کرتاہے، خشکی کے ماحول میں پہنچتے ہی وہ اسے بھول جاتا ہے۔
خدا کی خدائی کو ماننے کا نام توحید ہے اور خدا کی خدائی کو نہ ماننے کا نام شرک۔ اس اعتبار سے توحید کی اصل حقیقت اعتراف ہے اور شرک کی اصل حقیقت عدم اعتراف۔ انسان سے اس کے خدا کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی اعتراف ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ اعتراف کے بقدر بھی خدا کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔