شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 14:44 تا 14:46
وانذر الناس يوم ياتيهم العذاب فيقول الذين ظلموا ربنا اخرنا الى اجل قريب نجب دعوتك ونتبع الرسل اولم تكونوا اقسمتم من قبل ما لكم من زوال ٤٤ وسكنتم في مساكن الذين ظلموا انفسهم وتبين لكم كيف فعلنا بهم وضربنا لكم الامثال ٤٥ وقد مكروا مكرهم وعند الله مكرهم وان كان مكرهم لتزول منه الجبال ٤٦
وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍۢ ٤٤ وَسَكَنتُمْ فِى مَسَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ ٤٥ وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ ٤٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
۳

آدمی کا حال یہ ہے کہ ایک دن پہلے تک بھی وہ اپنے انجام کا احساس نہیں کرتا۔ اس کو اگر کوئی قوت یا حیثیت حاصل ہو تو وہ اس طرح اکڑتاہے گویا کہ اس کی حیثیت کبھی اس سے چھننے والی نہیں۔ وہ خدا کی دعوت کو ٹھکراتا ہے اور بھول جاتاہے کہ وہ جن چیزوں کے بل پر اس کو ٹھکرا رہا ہے وہ سب خدا ہی کی دی ہوئی ہیں۔ اس کے سامنے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان پر دھیان نہیں دیتا۔ ماضی کے سرکشوں کا انجام اس کے سامنے ہوتاہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ خود اس کے اپنے لیے کبھی ایسا ہونے والا نہیں۔

موجودہ دنیا میں جن لوگوں کو مواقع حاصل ہیں وہ حق کو نظر انداز کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر موت کے بعد جب وہ اپنی سرکشی کا انجام دیکھیں گے تو ان کو اپنے ماضی پر اس قدر شرم آئے گی کہ وہ چاہیں گے کہ اگر انھیںدوبارہ مہلت ملے تو وہ موجودہ دنیا میںآکر خوداپنی تردید کریں اور اس چیز کو مان لیں جس کا اس سے پہلے انھوں نے فخریہ طورپر انکار کردیا تھا۔

حق کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے۔ جس حق کے ساتھ خدا ہو اس کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، خواہ وہ اس کے خلاف اتنی بڑی تیاریوں کے ساتھ آئے ہوں جو پہاڑ کو ہلانے کے لیے بھی کافی ثابت ہو۔