58:17 58:21 আয়াতের গ্রুপের জন্য একটি তাফসির পড়ছেন
لن تغني عنهم اموالهم ولا اولادهم من الله شييا اولايك اصحاب النار هم فيها خالدون ١٧ يوم يبعثهم الله جميعا فيحلفون له كما يحلفون لكم ويحسبون انهم على شيء الا انهم هم الكاذبون ١٨ استحوذ عليهم الشيطان فانساهم ذكر الله اولايك حزب الشيطان الا ان حزب الشيطان هم الخاسرون ١٩ ان الذين يحادون الله ورسوله اولايك في الاذلين ٢٠ كتب الله لاغلبن انا ورسلي ان الله قوي عزيز ٢١
لَّن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ١٧ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًۭا فَيَحْلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ ۖ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ ۚ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلْكَـٰذِبُونَ ١٨ ٱسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ فَأَنسَىٰهُمْ ذِكْرَ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ حِزْبُ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱلشَّيْطَـٰنِ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ ١٩ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ٱلْأَذَلِّينَ ٢٠ كَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا۠ وَرُسُلِىٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌۭ ٢١
لَنْ
تُغْنِیَ
عَنْهُمْ
اَمْوَالُهُمْ
وَلَاۤ
اَوْلَادُهُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
شَیْـًٔا ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
اَصْحٰبُ
النَّارِ ؕ
هُمْ
فِیْهَا
خٰلِدُوْنَ
۟
یَوْمَ
یَبْعَثُهُمُ
اللّٰهُ
جَمِیْعًا
فَیَحْلِفُوْنَ
لَهٗ
كَمَا
یَحْلِفُوْنَ
لَكُمْ
وَیَحْسَبُوْنَ
اَنَّهُمْ
عَلٰی
شَیْءٍ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّهُمْ
هُمُ
الْكٰذِبُوْنَ
۟
اِسْتَحْوَذَ
عَلَیْهِمُ
الشَّیْطٰنُ
فَاَنْسٰىهُمْ
ذِكْرَ
اللّٰهِ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
حِزْبُ
الشَّیْطٰنِ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّ
حِزْبَ
الشَّیْطٰنِ
هُمُ
الْخٰسِرُوْنَ
۟
اِنَّ
الَّذِیْنَ
یُحَآدُّوْنَ
اللّٰهَ
وَرَسُوْلَهٗۤ
اُولٰٓىِٕكَ
فِی
الْاَذَلِّیْنَ
۟
كَتَبَ
اللّٰهُ
لَاَغْلِبَنَّ
اَنَا
وَرُسُلِیْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
قَوِیٌّ
عَزِیْزٌ
۟

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے مگر اس وقت وہ دہشت زدہ ، ہوکر رہ جائے گا۔جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں پر اس نے بھروسہ کر رکھا تھا وہ فیصلہ کے اس وقت میں اس کے کچھ کام آنے والی نہیں۔

منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے ليے بڑھ بڑھ کر باتیں کر تاہے۔ حتي کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے۔ یہ سب کر کے وہ سمجھتا ہے کہ ’’ وہ کسی چیز پر ہے‘‘۔ اس نے اپنے حق میں کوئی واقعی بنیاد فراہم کرلی ہے۔ مگر قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا اس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنے بے قصور ہونے کا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔